کولکتہ، 26؍ اگست (ایس او نیوز؍یو این آئی) کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے آج وزیراعظم نریندر مودی پر الزام عائد کیاکہ فرانس کے ساتھ رافیل جنگی جہاز سودے میں انہوں نے ملک کو تاریکی میں رکھا اورکانگریس کی مدت کار میں 12 دسمبر 2012 کو ہوئے پہلے معاہدے کے بعد سودے میں تین گنا اضافہ پر انہیں وضاحت دینی چاہئے ۔
مسٹر چدمبرم نے یہاں نامہ نگاروں کی ایک کانفرنس میں اس سودے سے منسلک دستاویز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مرکزی حکومت نے دفاعی سودوں سے متعلق سبھی طریقہ کار کو نظرانداز کیا اور اس سودے سے متعلق سبھی معتبرکمیٹیوں کو بھی تاریکی میں رکھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں جو بات یہ کہہ رہا ہوں وہی بات ریکارڈوں اور دستاویزوں پر کافی عرصے سے کانگریس کہتی رہی ہے اور اب تک کسی نے بھی ہمارے بیان میں کسی خامیوں کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
انہو ں نے اس سودے سے جڑی سبھی طرح کی دستاویز کو پیش کرتے ہوئے موجودہ حکومت سے دریافت کیا ہے کہ آخر مرکزی حکومت نے دفاعی خریداری کے عمل کو کیوں نظرانداز کیا اور کیوں مشاورتی کمیٹی اور قیمت کاتعین کرنے والی کمیٹی کو بھی تاریکی میں رکھا۔ مسٹر چدمبرم نے یہ الزام بھی لگایا کہ دفاعی معاملوں کی کمیٹی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ چدمبرم نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت کے بعد بی جے پی 2014 میں برسراقتدار آئی اور وزیراعظم نریندر مودی نے اپریل 2015 میں فرانس کے سرکاری دورے کے بعد اعلان کیا تھا کہ 36 رافیل جنگی جہاز کے سودے کو منظوری دے دی گئی ہے لیکن اس وقت قیمتوں کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔اس کے بعد داسالٹ ایوی ایشن کمپنی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ سودا 5ء7 ارب یورو کا ہے جو ہندوستانی قیمت میں 60145 کروڑ روپے ہوتا ہے جبکہ یو پی اے حکومت نے 36 رافیل کا سودے کو صرف 18940 کروڑ روپے میں منظوری دی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مودی حکومت کی مدت کار میں اس سودے کی قیمت بڑھ کر تین گنا ہوگئی۔
مسٹر چدمبرم نے دعویٰ کیا کہ اس سودے کے بارے میں ہر وزارت، ہر شعبوں کو تاریکی میں رکھا گیا اور مسٹر مودی نے جنگی جہاز کی خریداری میں ہر چیز کو نظرانداز کرکے اس کی منظوری دی۔انہوں نے کہا کہ یو پی اے حکومت کی مدت کار میں رافیل جنگی جہاز کا جو سودا ہوا تھا اس کے حساب سے فی جہاز 526 کروڑ روپے تھا لیکن مودی حکومت کی مدت کار میں اس جہاز کی قیمت بڑھ کر 1670 کروڑ روپے ہوگئی ۔ اس کے علاوہ موجودہ حکومت کے اس سودے میں کہیں بھی تکنیک کے ٹرانسفر کاکوئی ذکر نہیں ہے ۔